2 جولائی 2013 - 19:30
ايران اور روس کے سربراہوں کي ملاقات

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے اپنے روسي ہم منصب ولادمير پوتين سے ملاقات ميں جنوبي ايران کے بوشہر ايٹمي بجلي گھر کو ايران روس تعاون کا مظہر قرار ديا-

ابنا: صدر احمدي نژاد نے منگل کے روز کريملن ہاؤس  ميں روسي صدر سے ملاقات ميں ايران اور روس کے پاس گيس کے عظيم ذخائر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تيل اور گيس کے شعبوں ميں دونوں ملکوں کےدرميان بڑے اچھے معاہدے ہيں جن پر عملدرآمد کرنے کي ضرورت ہےـ
 
صدر احمدي نژاد نے دونوں ملکوں کے درميان اقتصادي لين دين کا حجم بڑھانے کي ضرورت پر زور ديا اور کہا کہ تيل، گيس اور متعلقہ ٹکنالوجي سے ليکر سائنس و ٹکنالوجي اور تجارت سميت  تمام ميدانوں ميں روس اور ايران کے باہمي تعاون کي توسيع کي کوئي حد نہيں ہےـ
 
اس ملاقات ميں روس کے صدر ولادمير پوتين نے کہا کہ ايران اور روس کے پاس گيس کےعظيم ذخائر ہيں جو دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات کي بنياد ہيں ـ
 
ولادمير پوتين نے کہا کہ آج اس بات کا امکان ہے کہ باہمي روابط اور علاقے کے حالات پر گفتگو کي جائےـ
 
ولادمير پوتين نے کہا کہ کيسپين سي کي طرف سے دونوں ملک ايک دوسرے کے ہمسايہ ہيں اور اس اعتبار سے بھي دونوں کے  مفادات مشترک  ہيں اور اس شعبے ميں تہران اور ماسکو وسيع پيمانے پر تعاون کر سکتے ہيں ـ
 
صدر احمدي نژاد نے ماسکو ميں نامہ نگاروں سے ايک ملاقات ميں بھي کہاکہ ايٹمي مسئلے ميں ٹکراؤ ختم کرکے  تعاون کي روش اختيار کي جاني چاہئےـ انہوں نے کہا کہ مسئلے کا واحد حل يہ ہے کہ مغرب ايران کے ايٹمي حقوق کو تسليم کرےـ
.......
/169